4203 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ زِيَادِ بْنِ مِينَاءَ عَنْ أَبِي سَعْدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَ مِنْ الصَّحَابَةِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ نَادَى مُنَادٍ مَنْ كَانَ أَشْرَكَ فِي عَمَلٍ عَمِلَهُ لِلَّهِ فَلْيَطْلُبْ ثَوَابَهُ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنْ الشِّرْكِ
صحا بی رسول حضرت ابو سعد بن ابو فضا لہ انصا ری ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فر یا جب قیا مت کے دن اللہ تعا لی پہلے اور پچھلے ت م انسا نو ں کو جمع کر ے گا ۔اور وہ دن ایسا ہے جس میں کو ئی شک نہیں تب ایک اعلان کر نے والا اور ایک اعلان کر ے گا ۔ جس نے اللہ کےلئے کیے ہو ئے عمل میں (کسی کو ) شر یک کیا وہ اس عمل کا ثوا ب غیر اللہ ہی سے نگے کیو نکہ اللہ دوسرے شر یکوں کے مقا بلے میں شر اکت سے سب سے زیا دہ بے نیا ز ہے ۔
1۔ ریاکاری قیامت کے دن رسوائی کا باعث ہے۔
2،ثواب دینا صرف اللہ کا کام ہے لہذا کوئی کسی سے کوئی ثواب حاصل نہیں کرسکتا۔اس لحاظ سے ریاکاری والے عمل بے کار ہیں جن کا ثواب نہ اللہ تعالی دے گا نہ عوام دے سکیں گے۔
3۔ریاکاری قیامت کے دن شرمندگی کا باعث ہوگی