فهرس الكتاب

الصفحة 2439 من 4341

کتاب: رہن( گروی رکھی ہوئی چیز)سے متعلق احکام ومسائل

باب: حدثنا ابو بکر بن ابی شیبہ

2439 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَدِرْعُهُ رَهْنٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فوت ہوئے آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے بدلے میں رہن رکھی ہوئی تھی۔

1۔ رہن کامطلب ہے کہ کسی کےپاس اپنی کوئی چیز بطورضمانت رکھ کر اس سے قرض یا ادھار لینا ۔ ضرورت کےوقت اس طرح قرض لینا یادینا جائز ہے ۔

2۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے (وان کنتم علی سفر ولم تجدوا کاتبا فرھن مقبوضۃ) (البقرۃ2:283)

اگر تم سفر میں ہو اورتمھیں (قرض کالین دین ) لکھنے والانہ ملے تورہن قبضے میں رکھ لیاکرو۔ اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتاہےکہ رہن کامعاملہ سفر کے ساتھ خاص ہے ۔حدیث سےواضح ہوگیا کہ حضر میں بھی گروی رکھنا جائز ہے ۔

3۔ غیر مسلموں سےلین دین کرنا جائز ہے۔یہ ان سے دلی دوستی نہ رکھنے کےمنافی نہیں ۔

4۔ رسول اللہ ﷺ کےپاس غنائم وغیرہ کاجومال آتا تھا اس کا پانچواں حصہ رسول اللہ ﷺ کو اپنی ضرورت پرخرچ کرنے کی اجازت تھی تاہم رسول اللہ یہ بھی عام مسلمانوں کی ضروریات میں خرچ فرمادیتےتھے اس لیے رہن شدہ زرہ واپس لینے کی طرف توجہ نہیں ہوئی۔ واللہ اعلم۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت