فهرس الكتاب

الصفحة 3328 من 4341

کتاب: کھانوں سے متعلق احکام ومسائل

باب: کھجور کا بیان

3328 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ جَدَّتِهِ سَلْمَى، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بَيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ، كَالْبَيْتِ لَا طَعَامَ فِيهِ»

حضرت سلمیٰ ؓا سے روایت ہے'نبیﷺ نے فرمایا:''جس گھر میں کھجوریں نہ ہوں'وہ اس گھر کی طرح ہے جس میں کوئی کھانا نہ ہو۔''

1۔ کھجور مکمل غذائی فوائد کی حامل ہے ۔ اس کی موجودگی میں کوئی دوسری غذائی چیز موجود نہ ہو تب بھی گزارہ ہو سکتا ہے ۔

2۔ کسی فصل کےموسم میں سال بھر کی ضرورت کے لیے غذائی چیز کو خرید کر رکھ لینا جائز ہے ۔ ممنوع ذخیرہ اندوزی یہ ہے کہ عوام کو ایک چیز کی ضرورت ہو اور تاجر اسے بیچنے کی بجائے سنبھال کر رکھ لے تاکہ بھاؤ اور زیادہ ہو جائے ۔

3۔ اس میں قناعت کا سبق ہے کہ جب کھجوریں موجود ہیں پھر طرح طرح کی اشیاء جمع کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت