فهرس الكتاب

الصفحة 2902 من 4341

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

باب: حج عورتوں کا جہا د ہے

2902 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيِّ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجُّ جِهَادُ كُلِّ ضَعِيفٍ

ام المؤمنین ام سلمہ ؓا سے روایت ہے'رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''حج ہر کمزور کا جہاد ہے۔''

1۔اللہ تعالی نے بعض معذوروں کو جہاد میں شریک نہ ہونے کی اجازت دی ہے۔ارشاد ہے (ليس علي الضعفآء ولا علي المرضي ولا علي الذين لايجدون ما ينفقون حرج ) (التوبة9:9) ضعیفوں بیماروں اور ان (ناداروں) پر کوئی حرج نہیں جن کے پاس خرچ کرنے کو کچھ نہیں۔ اسی طرح عورتوں اور بچوں پر بھی جہاد فرض نہیں ۔

2۔عورتیں بچے اور بوڑھے جو جہاد نہیں کرسکتے اسی طرح نابینا اور لنگڑا وغیرہ ان سب کا یہی حکم ہے۔

3۔ایسے معذوروں کے لیے قرب الہی اور عظیم ثواب حاسل کرنے کا ذریعہ حج اور عمرہ ہے۔ان لوگوں کے لیے یہی مشقت جہاد کے برابر ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت