فهرس الكتاب

الصفحة 795 من 4341

کتاب: مسجد اور نماز باجماعت کے مسائل

باب: نماز با جماعت سے پیچھے رہ جانا سخت گناہ ہے

795 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْهُذَلِيُّ الدِّمَشْقِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزَّبْرِقَانِ بْنِ عَمْرٍو الضَّمْرِيِّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيَنْتَهِيَنَّ رِجَالٌ عَنْ تَرْكِ الْجَمَاعَةِ، أَوْ لَأُحَرِّقَنَّ بُيُوتَهُمْ»

سیدنا اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے ،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''لوگوں کو چاہیے کہ جماعت ترک کرنے سے باز آجائیں ،ورنہ میں ضرور ان کے گھروں کو آگ لگا دوں گا۔''

رسول اللہ نے اس ارادے پر عمل نہیں فرمایا کیونکہ گھروں میں عورتیں اور بچے ہوتے ہیں جن پر جماعت میں ان کا لحاظ رکھتے ہوئے آپ ﷺ نے درگزر فرمایا لیکن جماعت سے پیچھے رہنا رسول اللہ ﷺ کی ناراضی کا باعث تو ہےہی،چنانچہ اسے ایک کبیرہ گناہ شمار کیا جاسکتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت