1676 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ أَبُو الشَعْثَاءِ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ وَمَنْ اسْتَقَاءَ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ
ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے نبی ﷺ نے فرمایا: ''جس کو خود بخود قے آجائے اس پر قضا نہیں ،اور جو قصدًا قے کرے، اس پر قضا ضروری ہے۔''
1۔مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سندًا ضعیف قرار دیا ہے۔جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔علاوہ ازیں ہمارے فاضل محقق نے سنن ابو دائود کی تحقیق میں لکھا ہے۔ کہ یہ مسئلہ حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ابن ابی شیبہ (3/38حدیث 9188) میں صحیح سند کے ساتھ مروی ہے۔لہذا یہ روایت سندًا ضعیف ہے۔اور معنًا صحیح ہے۔دیکھئے سنن ابودائود حدیث 2380 کی تحقیق وتخریج تفصیل کےلئے دیکھئے۔ (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الامام احمد 16/284 والارواء رقم 923) 2۔اس باب کی دونوں روایتوں میں باہم تعارض محسوس ہوتا ہے۔لیکن اگر پہلی حدیث کو نفلی روزے پر محمول کرلیا جائے تو تعارض رفع ہوجاتاہے۔3۔روزے کے دوران میں قے کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔اگر کسی وجہ سے قے کرنی پڑے تو اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔خواہ روزہ فرضی ہو یانفلی تاہم فرضی روزے کی قضا دینا ضروری ہے۔