فهرس الكتاب

الصفحة 734 من 4341

کتاب: آذان کے مسائل اور اس کا طریقہ

باب: اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کی ممانعت کابیان

734 حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ عَنْ ابْنِ أَبِي فَرْوَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَدْرَكَهُ الْأَذَانُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ خَرَجَ لَمْ يَخْرُجْ لِحَاجَةٍ وَهُوَ لَا يُرِيدُ الرَّجْعَةَ فَهُوَ مُنَافِقٌ

سیدنا عثمان ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص مسجد میں اذان ہو جانے کے بعد مسجد سے نکل گیا ،وہ کسی مجبوری کی وجہ سے نہیں نکلا اور واپس آنے کا ارادہ بھی نہیں رکھتا تو وہ منافق ہے۔''

فوائدومسائل:1۔ مذکورہ روایت کو ہمارے محقق نے سندًا ضعیف قرار دیا ہے جبکہ بعض محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔تفسیل کے لیے دیکھیے: (الصحيحه رقم:2518)

2۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے بلاوجہ نماز باجماعت کی فضیلت کو ترک کیا ہےاور نیکی سے محبترکھنے والا مومن ایسی حرکت نہیں کرسکتا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت