فهرس الكتاب

الصفحة 1896 من 4341

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

باب: نکاح کا اعلان کرنا

1896 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَصْلٌ بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ، الدُّفُّ وَالصَّوْتُ فِي النِّكَاحِ»

حضرت محمد بن حاطب ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حلال اور حرام میں فرق نکاح کے موقع پر دَف اور بلند آواز کا ہے۔

1۔ازدواجی تعلقات قائم کرنے کا شرعی طریقہ نکاح کا ہے ۔ اس میں عام لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ فلاں کا فلاں سے نکاح ہوا ہے جب کہ ناجائز تعلقات خفیہ طور پر قائم کیے جاتے ہیں اور کوشش کی جاتی ہے کہ لوگوں کو ان تعلقات کا علم نہ ہونے پائے ۔ نکاح میں گواہ مقرر کرنے کا یہی مقصد ہے ۔

شادی کے موقع پر دف بجانے کا بھی یہی مقصد ہے کہ سب لوگوں کو شادی کا علم ہو جائے ۔ اس موقع پر گیت وغیرہ بھی گائے جا سکتے ہیں بشرطیکہ ان کے الفاظ شریعت کی تعلیمات کے منافی نہ ہوں ۔ اور گانے والیاں نابالغ بچیاں ہوں ۔ خوشی کے اسی انداز سے اظہار عید کے ایام میں بھی جائز ہے ۔

دف ڈھول سے ملتی جلتی ایک چیز ہے ۔ جس میں صرف ایک طرف چمڑا لگا ہوتا ہے جبکہ ڈھول میں دونوں طرف چمڑا لگا ہوتا ہے ، اس لیے دف کی آواز اتنی زیادہ بلند اور خوش کن نہیں ہوتی ۔

بعض لوگ دف کے جواز سے ہر قسم کے راگ رنگ کا جواز ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہ استدلال درست نہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے دف کی اجازت دینے کے باوجود خود اس میں دلچسپی نہیں لی ۔ ( صحیح البخاری ، العیدین ، باب الحراب والدرق یوم العید ، حدیث: 949)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت