فهرس الكتاب

الصفحة 1953 من 4341

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

باب: قبول اسلام کے وقت چار سے زیادہ بیویوں کا نکاح میں ہونا

1953 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَسْلَمَ غَيْلَانُ بْنُ سَلَمَةَ وَتَحْتَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا»

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت غیلان بن سلمہ ؓ نے اسلام قبول کیا تو ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں۔ نبی ﷺ نے انہیں فرمایا: ان میں سے چار رکھ لو۔

1۔مذکورہ دونوں روایتوں کو ہمارے فاضل محقق نے سندا ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے انہیں صحیح قرار دیا ہے ۔ تفصیل کے لیے دیکھیئے: ( الموسوعۃ الحدیثۃ مسند الامام احمد: 8؍220۔224 ، و 9؍69 و ارواء الغلیل: 6؍291۔292 ، رقم: 1883 ، 1885) بنا پریں مذکورہ روایتیں سندا ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت ہیں ۔

اگر کوئی شخص اسلام سے پہلے چار سے زیادہ عورتوں سے نکاح کر چکا ہو تو اسلام قبول کرنے کے بعد اسے چار عورتیں نکاح میں رکھنے کا حق ہے ۔ باقی عورتوں کو طلاق دینا ضروری ہے ۔

چار سے زیادہ عورتیں نکاح میں ہونے کی صورت میں مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے جونسی چار عورتیں پسند کرے ، انہیں نکاح میں رکھ لے ۔ اس میں یہ شرط نہیں کہ جن سے پہلے نکاح ہوا ہو انہیں رکھا جائے یا بعد والیوں کو رکھا جائے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت