فهرس الكتاب

الصفحة 946 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: نمازی کے آگے سے گزرنے کا گناہ

946 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا لَهُ فِي أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْ أَخِيهِ، مُعْتَرِضًا فِي الصَّلَاةِ، كَانَ لَأَنْ يُقِيمَ مِائَةَ عَامٍ، خَيْرٌ لَهُ مِنَ الْخَطْوَةِ الَّتِي خَطَاهَا»

سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے نبی ﷺ نے فرمایا: ''اگر کسی کو معلوم ہو کہ اپنے بھائی کے سامنے سے ایک طرف سے دوسری طرف گزرنے پر جب کہ وہ نماز پڑھ رہا ہو کتنا گناہ ہے تو وہ اپنے اٹھائے ہوئے ایک قدم کی نسبت سو سال تک ٹھہرے رہنا بہتر سمجھے۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت