فهرس الكتاب

الصفحة 945 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: نمازی کے آگے سے گزرنے کا گناہ

945 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ، أَرْسَلَ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ الْأَنْصَارِيِّ يَسْأَلُهُ: مَا سَمِعْتَ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيِ الرَّجُلِ وَهُوَ يُصَلِّي؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا لَهُ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْ أَخِيهِ وَهُوَ يُصَلِّي، كَانَ لَأَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ» قَالَ: لَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ عَامًا، أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا، أَوْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا «خَيْرٌ لَهُ مِنْ ذَلِكَ»

سیدنا بسر بن سعید ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا: سیدنا زید بن خالد ؓ نے سیدنا ابو جہیم انصاری ؓ کی خدمت میں پیغام بھیجا ( کہ یہ بتایئے) آپ نے نبی ﷺ سے نمازی کے آگے سے کسی کے گزرنے کے بارے میں کیا سنا ہے؟ آپ فرماےت تھے: ''اگر کسی کو معلوم ہو جائے کہ جب اس کا بھائی نماز پڑھ رہا ہو تو اس ( نمازی ) کے آگے سے گزرنے کا کیا گناہ ہے تو چالیس۔۔۔۔ معلوم نہیں چالیس سال فرمایا، یا چالیس ماہ یا چالیس دن۔۔۔ تک ٹھہرنے کو بہتر سمجھے۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت