فهرس الكتاب

الصفحة 2641 من 4341

کتاب: دیتوں سے متعلق احکام ومسائل

باب: نو زائیدہ بچے کی دیت

2641 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ نَشَدَ النَّاسَ قَضَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ يَعْنِي فِي الْجَنِينِ فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ فَقَالَ كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ لِي فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِمِسْطَحٍ فَقَتَلَتْهَا وَقَتَلَتْ جَنِينَهَا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ وَأَنْ تُقْتَلَ بِهَا

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے ( لوگوں سے) اس معاملے میں نبی ﷺ کا فیصلہ دریافت فرمایا، یعنی پیٹ کے بچے کے قتل کے معاملے۔ حمل بن مالک بن نابغہ ؓ نے اٹھ ک رکہا: میری دو بیویاں تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو خیمے کی لکڑی ماری، ( اس طرح) اسے بھی قتل کر دیا اور اس کے پیٹ کے بچے کو بھی قتل کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے پیٹ کے بچے کی دیت ایک غلام دلوائی اور حکم دیا کہ اس عورت کو (قصاص کے طور پر) قتل کر دیا جائے۔

1۔اصل قانون رسول اللہﷺ کا قول و عمل ہی ہے۔2۔ اگر کسی مسئلے میں دلیل معلوم نہ ہوتو قرآن و حدیث سے دلیل تلاش کرنا ضروری ہے ۔3۔ حاملہ عورت کا قتل دو انسانوں کا قتل ہے، یعنی ماں اور بچے کا قتل ۔ عورت کا حکم تو عام قتل ہی کا ہوگا، یعنی قصاص یا پوری دیت، مگر پیٹ کےبچےکی دیت صرف ایک غلام یا ایک لونڈی ہوگی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت