فهرس الكتاب

الصفحة 3137 من 4341

کتاب: قربانی سے متعلق احکام ومسائل

باب: کتنی بکریاں اونٹ کے برابر ہیں؟

3137 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، ح وحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ تِهَامَةَ، فَأَصَبْنَا إِبِلًا وَغَنَمًا، فَعَجِلَ الْقَوْمُ، فَأَغْلَيْنَا الْقُدُورَ قَبْلَ أَنْ تُقْسَمَ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَأَمَرَ بِهَا، فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ عَدَلَ الْجَزُورَ، بِعَشَرَةٍ مِنَ الْغَنَمِ»

حضرت رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے ،انہوں نے فرمایا:ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تہامہ کے علاقے میں ذوالحلیفہ کےمقام پر تھے ۔ہمیں (غنیمت میں ) اونٹ اوربکریاں ملیں ۔ لوگوں نے جلدی کی ۔ (یعنی ) ہم نے (غنیمت ) تقسیم ہونے سے پہلے (جانور ذبح کرکے ) دیگیں پکالیں ۔ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ کے حکم سے ان (دیگوں ) کو الٹا دیا گیا،پھر رسول اللہ نے ایک اونٹ دس بکریوں کےبرابر قرار دیا (اور اس کے مطابق مال غنیمت کے جانور تقسیم کیے ۔)

1۔اس حدیث سے یہ دلیل لی گئی ہے کہ چونکہ اونٹ دس بکریوں کے برابر ہےلہذا اونٹ میں دس آدمی شریک ہوکر قربانی کرسکتے ہیںلیکن یہ دلیل واضح نہیں کیونکہ ممکن ہے اس وقت اونٹ کم اور بکریاں زیادہ ہونے کی وجہ سے ایک اونٹ کی قیمت دس بکریوں کے برابر شمار کی گئی ہو۔یا اونٹ عمدہ اور بکریاں دبلی ہونے کی وجہ سے شرح رکھی گئی ہو۔دیکھئے: (فتح الباري:9/775) اور غنیمت تقسیم کرتے وقت حصوں کی قیمت برابر ہونے کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔

2۔غنیمت تقسیم ہونے سے پہلے کوئی مجاہد غنیمت کی کسی چیز پر قبضہ نہیں کرسکتا۔

3۔بعض اوقات کسی غلطی پر مالی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔

4۔اس حدیث میں ذوالحلیفہ سے مراد وہ مشہور مقام نہیں جو اہل مدینہ کا میقات ہے بلکہ یہ یمن کے علاقے میں ہے۔ (محمد فواد عبد الباقيحاشيه سنن ابن ماجه)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت