فهرس الكتاب

الصفحة 2907 من 4341

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

باب: زند ہ آدمی کی طرف سے حج بدل کرنا جب اسے( خود حج کرنے کی )طاقت نہ ہو

2907 حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمٍ جَاءَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ قَدْ أَفْنَدَ وَأَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ وَلَا يَسْتَطِيعُ أَدَاءَهَا فَهَلْ يُجْزِئُ عَنْهُ أَنْ أُؤَدِّيَهَا عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک خاتون نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا:اے کے رسول!میرے والد صاحب بوڑھے ہیں۔وہ انتہائی بوڑھے ہو چکے ہیں اور حج کا فرض جو اللہ کی طرف سے بندوں پر عائد ہوتا ہے'وہ ان پر لازم ہو گیا ہےاور وہ (خود ) سے ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔اگر میں ان کی طرف سے قرض کو ادا کر دوں تو کیا ان کی طرف سے کافی ہو گا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''ہاں۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت