فهرس الكتاب

الصفحة 1041 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: نماز میں بالوں اور کپڑوں کو سمیٹنا

1041 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أُمِرْنَا أَلَّا نَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا وَلَا نَتَوَضَّأَ مِنْ مَوْطَإٍ

سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم ( نماز میں) بال یا کپڑے نہ سمیٹیں، اور (ناپاک جگہ پر) پاؤں پڑ جانے کی وجہ سے وضو نہ کریں۔

1۔مذکورہ روایت ہمارے فاضل محقق کے نزدیک سندا ضعیف ہے جبکہ معنا ً صحیح ہے کیونکہ اس روایت میں بیان کردہ باتیں دوسری احادیث سے ثابت ہیں۔ غالبًا اسی وجہ سے اسے شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ تفصیل کےلئے دیکھئے۔ (الارواء 198/1۔حدیث 183) 2۔اگر پائوں ناپاک ہوجایئں تو صرف پائوں دھولیے جایئں پورا وضو دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں اوراگر نجاست ظاہر نہ ہو تو محض جگہ کے ناپاک ہونے کے شک کی بنیاد پر پائوں دھونے کا تکلف نہیں کرنا چاہیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت