فهرس الكتاب

الصفحة 2545 من 4341

کتاب: شرعی سزاؤں سے متعلق احکام ومسائل

باب: مومن کی غلطی پر پردہ ڈالنا اور شک کا فائدہ دے کر حد سے بری کر دینا

2545 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْفَعُوا الْحُدُودَ مَا وَجَدْتُمْ لَهُ مَدْفَعًا

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہاں تک حد لگانے سے بچاؤ کی گنجائش ملے، حد رفع کرو۔

مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق سمیت دیگرمحققین نے ضعیف قراردیا ہے تاہم بعض علماء نے اس حدیث کامفہوم بیان کیا ہے کہ حداس وقت نافذ کرنی چاہیے جب جرم اس انداز سے ثابت ہوجائے کہ شک شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے۔حضرت ماعز اسلمی سے زنا کاجرم سرزد ہوگیاتو انھوں نےرسول اللہ ﷺ کی خدمت آکراعترف کرلیاچنانچہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:شایدتونے بوسہ لیا ہوگا'یا ہاتھ لگایا ہوگایا نگاہ ڈالی ہوگی۔جب انھوں نےصراحت سے اس غلطی کا اعترف کیا'جس کی سزارجم ہے تب رسول اللہﷺنے انھیں رجم کی سزا دی۔ (صیحح البخاری الحدود 'باب ھل یقول الامام للمقر لعلک لست اوغمزت.حدیث:2864)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت