فهرس الكتاب

الصفحة 3763 من 4341

کتاب: اخلاق وآداب سے متعلق احکام ومسائل

باب: نرد(چوسر)کھیلنا

3763 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدَشِيرِ فَكَأَنَّمَا غَمَسَ يَدَهُ فِي لَحْمِ خِنْزِيرٍ وَدَمِهِ

حضرت بُریدہ بن حصیب اسلمی ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جس نے نرد کھیلا، اس نے گویا اپنا ہاتھ خنزیرکے گوشت اور خون سے آلودہ کیا۔

۱۔ نرد یا نرد شیر ایک کھیل ہے جس میں مختلف خانوں میں گوٹیں رکھ کر انہیں ایک خاص طریق سے حرکت دی جاتی ہے جس کے نتیجے میں کھیل میں ہار جیت ہوتی ہے۔جو سر اور شطرنج وغیرہ اس کی مختلف صورتیں ہیں ۔۲۔ نرد اور شطرنج وغیرہ میں عام طور پر شرط لگا کر کھیلا جاتا ہے، اور ہارنے والا جیتنے والے کو کوئی چیز یا نقد رقم ادا کرتا ہے، اس لیے یہ جو ئے میں شامل ہے جو حرام ہے۔۳۔ خنزیر ناپاک جانور ہے، ایک مسلمان اسے چھونا بھی گوارا نہیں کرتا چہ جائیکہ اس کا گوشت بنائے یا خون میں ہاتھ رنگے۔ جوئے سے تعلق رکھنے والے کھیل سے اتنی نفرت ہونی چاہیے۔۴۔ شطرنج اور جوئے کے حرام ہونے کی یہ وجہ ہے کہ لوگ اس میں مشغول ہو کر وقت ضائع کرتے ہیں حتی کہ نماز کی بھی پرواہ نہیں کرتے ۔کسی دوسرے کھیل میں بھی اس انداز سے مگن ہونا منع ہے کہ عبادت ، ذکر الہی اورحقوق العباد کی ادائیگی متاثر ہو۔۵۔ بعض علماء نے بغیر شرط لگائے شطرنج کھیلنا جائز قرار دیا ہے بشرطیکہ دوسرے فرائض کی ادائیگی پر اثر نہ پڑے لیکن اس سے پرہیز ہی بہتر ہے کیونکہ شروع میں اگر یہ احتیاط ملحو ظ بھی رکھی جائے تو عادت پڑ جانے پر اس کا خیال رکھنا مشکل بلکہ نا ممکن ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت