فهرس الكتاب

الصفحة 1262 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: سورج گرہن کی نماز

1262 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَأَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ وَجَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ انْكَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ فَزِعًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ حَتَّى أَتَى الْمُسْجِدَ فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّي حَتَّى انْجَلَتْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ أُنَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنْ الْعُظَمَاءِ وَلَيْسَ كَذَلِكَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا تَجَلَّى اللَّهُ لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ خَشَعَ لَهُ

سیدنا نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج گرہن ہوگیا، آپ گھبرائے ہوئے کپڑا کھینچتے ( گھر سے) باہر تشریف لائے حتی کہ مسجد میں آگئے۔ آپ نماز پرھتے رہے حتی کہ سورج روشن ہوگیا اس کے بعد فرمایا: ''بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سورج اور چاند کو گرہن بڑے لوگوں میں سے کسی کی موت کی وجہ سے لگتا ہے ایسا ہر گز نہیں ہے۔ سورج اور چاند کو کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ ( لیکن) اللہ تعالیٰ جب مخلوق میں سے کسی چیز پر تجلی فرماتا ہے تو وہ عاجزی کا اظہار کرتی ہے۔''

1۔یہ روایت سندا ضعیف ہے۔لیکن اس کا مجموعی مضمون صحیح احادیث سے ثابت ہے۔2۔موقع کی مناسبت سے وعظ ونصیحت زیادہ موثر ہوتا ہے۔اس لئے ا س قسم کے موقعوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ جب عوام سننے کی طرف راغب ہوں۔3۔جاہلیت کے توہمات کا وضاحت سے رد کرنا چاہیے۔آج کل عوام نجوم کے نام نہاد علم کی ظرف بہت راغب ہیں۔اور ستاروں اور برجوں کے اثرات پر یقین رکھتے ہیں۔ان توہمات کی سختی سے تردید کرنی چاہیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت