1007 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ أَبُو جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْكِلَابِيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سَلِيمٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مَيْسَرَةَ الْمَسْجِدِ تَعَطَّلَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ عَمَّرَ مَيْسَرَةَ الْمَسْجِدِ كُتِبَ لَهُ كِفْلَانِ مِنْ الْأَجْرِ
سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ سے عرض کیا گیا: مسجد کی بائیں جانب تو بالکل خالی ہوگئی۔ ( لوگ ثواب کی نیت سے دائیں طرف کھڑے ہوتے ہیں) تو نبی ﷺ نے فرمایا: ''جس نے مسجد کی بائیں جانب کو آباد کیا اسے دگنا ثواب ملے گا۔''
فائدہ۔یہ روایت ضعیف ہے۔اس لئے اس سے اس میں بیان کردہ فضیلت کااثبات نہیں ہوتا۔تاہم پہلی صف نامکمل چھوڑ کر دوسری صف میں کھڑا ہونا درست نہیں ویسے بھی پہلی صف دوسری سے افضل ہے تو پہلی صف کابایاں حصہ بھی دوسری صف کے دایئں حصے سے افضل ہوگا۔