فهرس الكتاب

الصفحة 1019 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: نمازی سلام کا جواب کس طرح دے

1019 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا نُسَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ فَقِيلَ لَنَا إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا

سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نماز میں ( ایک دوسرے کو ) سلام کر لیا کرتے تھے۔ پھر ہمیں فرمایا گیا: نماز میں مصروفیت ہوتی ہے۔

جب نماز میں بات چیت کرنے کی اجازت تھی تو سلام بھی کیاجاتا تھا بعد میں یہ حکم دے دیا گیا کہ کوئی نمازی نماز کے دوران میں دوسرے آدمی کو سلام نہ کرے۔اس کے لئے نماز کی مصروفیت کافی ہے پوری توجہ سے ادعیہ اور اذکار میں مصروف رہے۔لیکن گزشتہ احادیث سے معلوم ہوا کہ نمازی خود تو کسی کو سلام نہیں کرسکتا۔تاہم اس سلام کیاجاستکا ہے۔وہ زبان سے تو سلام کاجواب نہیں دے سکتا۔البتہ اشارے سے جواب دے سکتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت