1119 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ أَنْبَأَنَا ضَمْرَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَتَبَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَخْبِرْنَا بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مَعَ سُورَةِ الْجُمُعَةِ قَالَ كَانَ يَقْرَأُ فِيهَا هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ
سیدنا عبیداللہ ؓ سے روایت ہے کہ سیدنا ضحاک بن قیس ؓ نے سیدنا نعمان بن بشیر ؓ کو خط لکھا۔ ہمیں یہ بتایئے کہ نبی ﷺ جمعے کے دن سورہٴ جمعہ کے ساتھ دوسری کون سی سورت پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: نبی ﷺ اس نماز میں ( ھل اتک حدیث الغاشیة) (سورة الغاشیہ) پڑھتے تھے۔
1۔اس میں جمعے کی نماز میں سورۃ غاشیہ کی تلاوت کا زکر ہے۔جب کہ گزشتہ حدیث میں سورہ جمعہ اور سورہ منافقون کازکر ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ سورتوں کی تلاوت میں اختیار ہے۔2۔تحریری طور پر مسئلہ پوچھنا اور بتانا درست ہے۔3۔تحریر بھی اسی طرح قابل اعتماد ہے۔جس طرح براہ راست سنی ہوئی حدیث بشرط یہ کہ یقین ہو یہ تحریر فلاں صاحب ہی کی ہے۔