فهرس الكتاب

الصفحة 1141 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: بارہ رکعت سنت مؤکدہ کا بیان

1141 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ

ام المومنین سیدہ ام حبیبہ بنت ابو سفیان ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ''جس شخص نے دن رات میں ( فرضوں کے علاوہ) بارہ رکعتیں پڑھیں اس کے لئے جنت میں گھر تعمیر کیا جائے گا۔''

1۔بارہ رکعت سے مراد ہی مئوکدہ سنتیں ہیں جن کی تفصیل گزشتہ حدیث میں بیان ہوئی ہے۔2۔جنت میں گھر تعمیر ہونا ان نمازوں کا اجر ہے۔اگر دوسرے اعمال کی وجہ سے جنت میں داخل ہو بھی جائے تب بھی اس عمل کے ثواب پر خاص طور پر ایک گھر ملے گا۔3۔اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ سنت نمازیں پابندی سے ادا کرنے والے کے گناہ معاف ہوجایئں گے۔جس کی وجہ سے وہ اللہ کی رحمت سے جنت میں داخل ہونے کا اہل ہوجائے گا۔لہذا محض سستی اور بے پروائی کی وجہ سے سنتیں چھوڑ دینا بری بات ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت