فهرس الكتاب

الصفحة 1144 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: فجر سے پہلے دو رکعتوں کا بیان

1144 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ كَأَنَّ الْأَذَانَ بِأُذُنَيْهِ

سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ صبح ( کے فرضوں) سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے، ( اور اتنے ہلکی پڑھتے) گویا آپ کے کانوں میں اقامت کے آواز آرہی ہے۔

1۔نماز ہلکی پڑھنے کایہ مطلب نہیں کہ رکوع اور سجود اطمینان سے اادا نہ کیے جایئں۔ بلکہ تسبیحات کی تعداد اور تلاوت کی مقدار میں کمی مراد ہے۔2۔رسول اللہ ﷺ فجر کی سنتوں میں (سوره...قل ياايهاالكافرون) اور (سوره ...قل هوالله احد) کی تلاوت کیا کرتے تھے۔او ر یہ سب سے مختصر سورتوں میں سے ہیں۔ (صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب استحباب رکعتی سنۃ الفجر...حدیث 726وسنن ابن ماجہ حدیث 1148۔1150) بعض اوقات ان رکعتوں میں قدرے طویل قراءت بھی کرلیتے تھے۔ (صحیح مسلم حوالہ مذکور بالا)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت