1152 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ لَهُ بِأَيِّ صَلَاتَيْكَ اعْتَدَدْتَ
سیدنا عبداللہ بن سرجس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز کے دوران میںایک آدمی کو فجر سے پہلے کی دو سنتیں پڑھتے دیکھا، نماز سے فارغ ہو کر رسول اللہ ﷺ اس سے فرمایا: ''تو نے اپنی دونوں نمازوں میں سے کس کا اعتبار کیا ہے؟''
1۔اس عبارت کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ تو نے کس نماز کواپنا مقصد قرار دیا ہے۔ یعنی کیا تیرا مقصود وہ نماز تھی جو اکیلے پڑھی۔یا وہ جس کی جماعت ہورہی تھی۔؟چونکہ گھر سے آتے وقت اصل مقصد فرض نماز کی ادایئگی ہوتا ہے۔تو اس پردوسری کو ترجیح دینا درست نہیں۔سنتیں تو گھر میں بھی ادا کی جاسکتی ہیں۔مسجد میں آنے کا اصل مقصد وہ نہیں ہوتیں۔2۔اس حدیث سے واضح طور پرثابت ہوگیا کہ جماعت کھڑی ہوتو فجر کی سنتیں پڑھنادرست نہیں بلکہ جماعت کے ساتھ شامل ہونا ضروری ہے۔