فهرس الكتاب

الصفحة 1155 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: جس کی فجر کی سنتیں چھوٹ جائیں وہ کب پڑھے؟

1155 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ قَالَا حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ عَنْ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ فَقَضَاهُمَا بَعْدَ مَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ

سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نیند کی وجہ سے فجر کی سنتیں نہ پڑھ سکے تو آپ نے سورج طلوع ہونےکے بعد ان کی قضا دی۔

اس سے معلوم ہوا کہ فجر کی سنتیں رہ جایئں تو سورج طلوع ہونے کے بعد بھی پڑھی جاسکتی ہیں۔ تاہم انھیں قضا قرار دیا گیا ہے۔اس لئے طلوع آفتاب سے پہلے پڑھ لینابہتر ہے کیونکہ وہ نماز فجر کا ہی ایک حصہ ہیں۔جنھیں فجر کے وقت ہی میں پڑھ لیا گیا تو قضا نہیں ہوئیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت