فهرس الكتاب

الصفحة 1157 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: ظہر سے پہلے چار سنتیں

1157 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ مُعَتِّبٍ الضَّبِّيِّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ قَرْثَعٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِتَسْلِيمٍ وَقَالَ إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ تُفْتَحُ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ

سیدنا ابو ایوب (خالد بن زید انصاری) ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سورج ڈھلنے پر ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے تھے۔ ان میں سلام کے ساتھ فاصلہ نہیں کرتے تھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ''جب سورج ڈھل جاتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔''

1۔یہ روایت بعض حضرات کے نزدیک صحیح ہے۔لیکن اس میں الفاظ ان میں سلام کے ساتھ فاصلہ نہیں کرتے تھے۔ صحیح نہیں ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ ظہر کے فرضوں سے پہلے چار رکعت سنتیں بہ یک سلام اور دودو کرکے دونوں طرح پڑھنا جائز ہے۔تاہم دودوکرکے پڑھنا زیادہ بہتر ہے 2۔یہ وقت اعمال کی قبولیت کا ہے ۔3۔ظہر کاوقت سورج ڈھلتے ہی شروع ہوجاتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت