1165 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ فِي مَسْجِدِنَا ثُمَّ قَالَ ارْكَعُوا هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ فِي بُيُوتِكُمْ
سیدنا رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول ﷺ ہمارے ہاں ( یعنی) بنع عبدالاشہل کے محلے میں تشریف لائے۔ آپ نے ہماری مسجد میں ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی ، پھر فرمایا: ''یہ دو رکعتیں اپنے گھروں میں پڑھا کرو۔''
1۔قائد اور بڑے عالم کوچاہیے کہ اپنے زیر اثر علاقے کا دورہ کرے تاکہ عوام کے حالات سے براہ راست واقف ہوسکے۔2۔جب مسجد میں بڑا عالم تشریف لے آئے۔تو مسجد کے امام کو چایے کہ اسے نماز پڑھانے کاموقع دے۔3۔سنتیں گھر میں پڑھنا افضل ہے۔تاہم بعض احادیث سے اشارہ ملتا ہے کہ مسجد میں پڑھنا بھی جائز ہے۔