فهرس الكتاب

الصفحة 1186 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: رات کے آخری حصے میں وتر پڑھنا

1186 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِهِ وَأَوْسَطِهِ وَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ

سیدنا علی ؓ سے روایت ہے ،انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھے ہیں۔ رات کے شروع میں بھی درمیان میں بھی اور آپ کے وتر سحر تک ختم ہوتے تھے۔

صبح صادق تک وتر ختم ہونے کامطلب یہ ہے کہ رات کے بالکل آخری حصے میں وتر پڑھتے حتیٰ کہ جب فارغ ہوئے تو اذان کاوقت ہوگیا۔یعنی فجر کی اذان سے پہلے وتر پڑھے۔یہ نماز وتر کا آخری وقت ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت