فهرس الكتاب

الصفحة 1189 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: اگر نیند یا بھول جانے کی وجہ سےوتر رہ جائیں تو کیا کرے؟

1189 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَأَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْتِرُوا قَبْلَ أَنْ تُصْبِحُوا قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى فِي هَذَا الْحَدِيثِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ حَدِيثَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَاهٍ

سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔'' امام ابن ماجہ ؓ کے استاد جناب محمد بن یحییٰ بیان کرتے ہیں کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ عبدالرحمن (بن زید بن اسلم ) کی روایت ( حدیث: ۱۱۸۸) ضعیف ہے۔

جناب محمد بن یحیٰ نے اس حدیث کو غالبًا اس لئے ضعیف قرار دیا ہے۔کہ وہ سابقہ حدیث سے بظاہر متعارج ہے لیکن کہا جاسکتا ہے کہ پہلی حدیث میں عذر (نند یا بھو ) کیصورت میں حکم مذکور ہے اور دوسری حدیث میں اصل حکم کا ذکر ہے جس پر عمل کرنا چاہیے۔اس لہاظ سے تعارض نہیں ہوگا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت