فهرس الكتاب

الصفحة 1212 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: نماز میں شک ہو جانے کی صورت میں سوچ کر صحیح صورت معلوم کرنا

1212 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَالَ الطَّنَافِسِيُّ هَذَا الْأَصْلُ وَلَا يَقْدِرُ أَحَدٌ يَرُدُّهُ

سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب کسی کو نماز میں شک پڑ جائے تو اسے چاہیے کہ صحیح بات ( سوچ کر) معلوم کرے، پھر دو سجدے کر لے۔'' امام ابن ماجہ ؓ کے استاد علی بن محمد طنافسی بیان کرتے ہیں کہ یہ اصل ہے۔ اس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔

طنافسی کے قول کا مطلب یہ ہے کہ شک کی بناء پر سجدہ سہو کالازم ہونا ایک متفق علیہ مسئلہ ہے۔جس میں کسی کو اختلاف نہیں باقی تفصیلات میں اختلاف ہوسکتاہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت