فهرس الكتاب

الصفحة 1219 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: سلام کے بعد سجدۂ سہو

1219 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ سَالِمٍ الْعَنْسِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي كُلِّ سَهْوٍ سَجْدَتَانِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ

سیدنا ثوبان ؓ سے روایت ہے، انہوں نےفرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپ نے فرمایا: ''ہر بھول میں دو سجدے ہیں۔ سلام پھیرنے کے بعد۔''

1۔ ہربھول کا مطلب یہ ہے کہ غلطی خواہ کمی کی ہو یا زیادتی کی۔اس کاازالہ سہو کے دو سجدوں سے ہوجاتا ہے۔2۔اگر یقین ہوجائے کہ نماز کی رکعتیں کم پڑھی گئی ہیں تو چھوٹی ہوئی رکعت پڑھ کرسجدہ سہو کرنا چاہیے۔جیسے گزشتہ ابواب میں بیان ہوا۔3۔سہو کے سجدے سلام سے پہلے بھی کیے جاسکتے ہیں۔اور سلام کے بعد بھی زیر مطالعہ حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ سلام سے پہل سجدہ سہو نہیں ہوسکتا بلکہ مطلب یہ ہے کہ ہر سہو میں اسلام کے بعد بھی سجدے کرنا درست ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت