فهرس الكتاب

الصفحة 1244 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: نماز فجر میں دعائے قنوت کا بیان

1244 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ

سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے جب فجر کی نماز میں (رکوع سے) سر اٹھایا تو فرمایا: اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ربیعہ ؓم اور مکہ کے ( دوسرے ) کمزور افراد کو ( مشرکوں سے) نجات دے۔ اے اللہ! قبیلہ مضر ( کے کافروں ) پر گرفت کو شدید تر کر دے اور ان پر یوسف  ( کے زمانے) کے سالوں جیسے ( قحط اور سختی کے) سال مسلط فر دے۔''

1۔قنوت نازلہ آخری رکعت میں رکوع کے بعد پڑھی جاتی ہے۔2۔اس میں امام بلند آواز سے مناسب دعایئں کرتا ہے۔3۔قنوت نازلہ میں مظلوم مسلمانوں کا نام لے کر ان کے حق میں اور کافروں کانام لے کر ان کے خلاف دعا کی جاسکتی ہے۔دیکھئے۔ (صحیح البخاری التفسیر۔باب(ليس لك من الامر شئ) حدیث 4560 وصحیح المسلم المساجد باب استحباب القنوت فی جمیع الصلواۃ۔۔۔حدیث 675)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت