فهرس الكتاب

الصفحة 1256 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: جب لوگ تاخیر سے نماز ادا کریں تو کیا کرنا چاہیے

1256 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَكْتَ الْإِمَامَ يُصَلِّي بِهِمْ فَصَلِّ مَعَهُمْ وَقَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ وَإِلَّا فَهِيَ نَافِلَةٌ لَكَ

سیدنا ابو ذر ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ' ' نماز وقت پر ادا کر، پھر اگر تجھے امام لوگوں کو نماز پڑھاتا مل جائے تو ان کے ساتھ بھی نماز پڑھ لے اور ( اول وقت ادا کر کے) تو نے اپنی نماز محفوظ کر لی ورنہ ( دوبارہ پڑھنے سے) وہ تیرے لئے نفل بن گئی۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت