فهرس الكتاب

الصفحة 1305 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: عید کے دن برچھی لے جانا

1305 حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى يَوْمَ عِيدٍ أَوْ غَيْرَهُ نُصِبَتْ الْحَرْبَةُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا وَالنَّاسُ مِنْ خَلْفِهِ قَالَ نَافِعٌ فَمِنْ ثَمَّ اتَّخَذَهَا الْأُمَرَاءُ

سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ عید کے دن یا کسی اور دن جب نماز ادا فرماتے تو آپ کے سامنے برچھی گاڑ دی جاتی۔ آپ اس کی طرف منہ کر کے نماز ادا فرماتے اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو جاتے تھے۔ امام نافع ؓ نے فرمایا: اسی وجہ سے خلفاء نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے۔

1۔ سترہ صرف عید کی نماز کے لئے خاص نہیں۔دوسری کوئی نماز بھی جب مسجد کے باہر ادا کی جائے۔ مثلا سفر میں۔۔۔تو امام کے سامنے سترہ ہونا چاہیے۔2۔مقتدیوں کے لئے الگ سترے کی ضرورت نہیں۔ہاں جب مقتدی علیحدہ سنتیں وغیرہ پڑھیں گے۔تو ان کےلئے الگ سترہ ضروری ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت