1320 حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ و عَنْ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ و عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ فَقَالَ يُصَلِّي مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَافَ الصُّبْحَ أَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے رات کی نماز ( تہجد) کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: '' (نمازی کو چاہیے کہ) دو دو رکعت پڑھتا رہے ، جب صبح صادق ہوجانے کا خوف محسوس ہو تو ایک وتر پڑھ لے۔''
1۔تہجد کی نماز آٹھ رکعت سےکم بھی ہوسکتی ہے۔2۔صبح صادق ہوجانے سے پہلے وتر پڑھ کر فارغ ہوجانا چاہیے۔3۔وتر ایک رکعت بھی جائز ہے۔4۔حضر ت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تین وتردو سلاموں کے ساتھ ادا فرماتے تھے ۔یعنی دو رکعت پڑھ کر سلام پھیرتے ۔پھر ایک رکعت پڑھتے۔ (صحیح البخاری الوتر باب ماجاء فی الوتر حدیث 991)