1336 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ فَصَلَّى وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَصَلَّتْ فَإِنْ أَبَتْ رَشَّ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنْ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا فَصَلَّى فَإِنْ أَبَى رَشَّتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ اس مرد پر رحمت فرمائے جس نے رات کو جاگ کر نماز پڑھی اور اپنی بیوی کو جگایا تو اس نے بھی نماز پڑھی، اگر عورت نے ( جانگے سے) انکار کیا تو اس ( مرد) نے اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے۔ اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم فرمائے جس نے رات کو جاگ کر نماز پڑھی اور اپنے خاوند کو جگایا تو اس نے بھی نماز پڑھی ۔ اگر مرد نے (جاگنے سے) انکار کیا تو اس ( عورت) نے مرد کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے۔''
1۔میاں بیوی میں سے اگر ایک تہجد پڑھنے کاعادی ہو تو اسے چاہیےکہ دوسرے کو یہ عادت ڈالنے کی کوشش کرے۔2۔اگر نیند غالب ہو تو پانی کے چھینٹوں سے بیدار ہونا آسان ہوجائے گا۔ پھر وضو کرکے نماز ادا کی جاسکے گی۔ مطلب یہ ہے کہ پوری کوشش کی جائے۔کہ خاوند یا بیوی میں سے کوئی بھی اس نیکی سے محروم نہ رہے۔3۔نیکی میں تعاون اور ترغیب کا یہ عمل اللہ کی رحمت کا باعث ہے۔