فهرس الكتاب

الصفحة 134 من 4341

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت

باب: عشرۂ مبشرہ کے فضائل و مناقب

134 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «اثْبُتْ حِرَاءُ، فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ» وَعَدَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدٌ، وَابْنُ عَوْفٍ، وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ»

حضرت سعید بن زید ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا:'' حراء (پہاڑ) ! ٹھہر جا، تجھ پر صرف نبی، صدیق اور شہید ہیں۔'' راوی نے ان حضرات کو شمار کیا ( جو پہاڑ پر تھے، اور کہا) : اللہ کے رسول ﷺ ، ابو بکر، عمر ، عثمان ، علی طلحہ، زبیر، سعد ، عبدالرحمن بن عوف اور سعید بن زید ؓم۔

(1) اس حدیث میں مذکور صحابہ کی فضیلت واضح ہے کہ وہ بہت سے مواقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہوتے تھے۔ (2) یہ بات آپ علیہ السلام نے اس وقت فرمائی جب حراء پہاڑ پر زلزلہ آیا۔ نبی اکرم علیہ السلام کے ٹھہر جا کہنے سے وہ ٹھہر گیا۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے۔ (3) حراء ایک پہاڑ ہے جو مکہ شہر سے تقریبا تین میل کے فاصلے پر ہے، قبل از بعثت آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں جا کر عبادت کیا کرتے تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت