فهرس الكتاب

الصفحة 1356 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: جب آدمی رات کو قیام کے لیے جاگے تو دعا مانگنا(مسنون ہے)

1356 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ حَدَّثَنِي أَزْهَرُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ مَاذَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ بِهِ قِيَامَ اللَّيْلِ قَالَتْ لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ كَانَ يُكَبِّرُ عَشْرًا وَيَحْمَدُ عَشْرًا وَيُسَبِّحُ عَشْرًا وَيَسْتَغْفِرُ عَشْرًا وَيَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي وَيَتَعَوَّذُ مِنْ ضِيقِ الْمُقَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

عاصم بن حمید ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے سیدہ عائشہ ؓا سے سوال کیا: نبی ﷺ رات کے قیام ( تہجد) کی ابتدا کس چیز سے کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے وہ بات پوچھی ہے جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھی آپ دس بار (اللہ اکبر) دس بار ( الحمدللہ) دس بار ( سبحان اللہ) اور دس بار ( استغفراللہ ) کہتے تھے۔ پھر فرماتے: ( اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِى وَاهْدِنِى وَارْزُقْنِى وَعَافِنِى) ''اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق عنایت فر اور مجھے آرام و راحت سے بہرہ فرما۔'' اور آپ قیامت کے دن ( میدان حشر میں) کھڑے ہونے کی تنگی سے اللہ کی پناہ چاہتے تھے۔

۔ (ضیق المقام) سے پناہ کامطلب یہ ہے کہ اے اللہ! جب قیامت کے دن تیرے سامنے پیش ہوکر زندگی کے اعمال کا حساب دینا ہے۔اس و قت مشکل نہ بنے آسانی سے حساب کتاب سے فراغت ہوجائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت