فهرس الكتاب

الصفحة 1374 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: مغرب اور عشاء کے درمیان(نفل )نماز

1374 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي خَثْعَمٍ الْيَمَامِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ بَعْدَ الْمَغْرِبِ لَمْ يَتَكَلَّمْ بَيْنَهُنَّ بِسُوءٍ عُدِلَتْ لَهُ عِبَادَةَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً

ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس نے مغرب کے بعد چھ رکعت نماز پڑھی اور ان کے درمیان کوئی بری بات نہ کہی تو اس کو بارہ سال کی عبادت کے برابر ثواب ہوگا۔''

بعض لوگ اس نماز کواوابین کے نام سے پکارتے ہیں۔صحیح بات یہ ہے کہ صلاۃ اوابین نماز چاشت (ضحیٰ) کادوسرا نام ہے۔جیسے کہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ (صلاة اوابين حين ترمض الفصال) (صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب صلاۃ الاوابین حین ترمض الفصال حدیث 748) اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں کی نماز اسوقت ہوتی ہے۔جب اونٹ کے بچوں کے پائوں (ریت کی گرمی سے) جلنے لگیں۔ مذکورہ دونوں روایتیں ضعیف ہیں۔اس لئے دونوں ناقابل حجت ہیں۔نماز چاشت کی وضاحت آگے آرہی ہے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت