فهرس الكتاب

الصفحة 138 من 4341

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت

باب: حضرت عبداللہ بن مسعود کے فضائل

138 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، بَشَّرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ، فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ»

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ابو بکر و عمر ؓ نے انہیں خوشخبری دی کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:'' جو شخص قرآن کو اس طرح تروتازہ پڑھنا چاہتا ہے جس طرح وہ نازل ہوا، اسے چاہیے کہ ابن ام عبد ( عبداللہ بن مسعود ؓ ) کی قراءت کے مطابق پڑھے۔

(1) اس میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے انداز تلاوت کی تعریف ہے کہ انتہائی صحت حروف کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں۔ تروتازہ قراءت سے مراد، بغیر تغیر کے تلاوت کرنا ہے۔ (2) جس طرح قرآن مجید کو سمجھنا اور عمل کرنا ضروری ہے اسی طرح اس کی صحیح اور عمدہ انداز سے تلاوت کرنا بھی ضروری اور قابل تعریف ہے۔ اس سے علم تجوید اور قراءت کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ (3) مسلمان بھائی کو ایسی بات بتا دینا اللہ کے ہاں محبوب ترین اعمال میں سے ہے جس سے اسے خوشی حاصل ہو جس طرح حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو خوش خبری دی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاوت کو پسند فرمایا ہے اور اس کے مطابق پڑھنے کی ترغیب دی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت