1393 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَرَّ سَاجِدًا
کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی تو وہ سجدے میں گر پڑے۔
حضرت کعب بن مالک حضرت مرارہ بن ربیع اور حضرت ہلال بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ غزوہ تبوک سے محض سستی کی بنا پر کسی معقول عذر کے بغیر پیچھے رہ گئے تھے۔ جس پر اللہ کے حکم سے تمام مسلمانوں نے ان تینوں حضرات سے پچاس دن تک بائیکاٹ کردیا۔ اتنی طویل مدت تک یہ حضرات پریشان رہے اور توب کرتے رہے۔ آخر پچاس دن بعد توبہ قبول ہوئی۔تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلمنے اس دن کو ان کی زندگی کا افضل ترین دن قراردیا۔ (صحیح البخاری المغازی باب حدیث کعب بن مالک حدیث 4418) قرآن مجید میں سورہ توبہ آیت 118 میں اسی واقعے کی طرف اشارہ ہے۔