فهرس الكتاب

الصفحة 1426 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: بندے سے سب سے پہلا حساب نماز کا ہوگا

1426 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ: أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَدَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَلَاتُهُ، فَإِنْ أَكْمَلَهَا كُتِبَتْ لَهُ نَافِلَةً، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَكْمَلَهَا، قَالَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ لِمَلَائِكَتِهِ: انْظُرُوا، هَلْ تَجِدُونَ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ؟ فَأَكْمِلُوا بِهَا مَا ضَيَّعَ مِنْ فَرِيضَتِهِ، ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ

تمیم داری ؓ سے روایت ہے ، نبی ﷺ نے فرمایا: ''قیامت کے دن بندے سے جس عمل کا سب سے پہلے حساب لیا جائے گا وہ اس کی (فرض) نماز ہے۔ اگر اسے پورا ادا کیا ہوگا تو ( باقی نمازیں) اس کے لیے نفل لکھ دی جائیں گی۔ اگر انہیں پورا نہیں ادا کیا ہوگا تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا: دیکھو، کیا تمہیں میرے بندے کے کوئی نفل ملتے ہیں؟ اس نے اپنے فرائض میں جو کوتاہی کی تھی ، وہ ان ( نوافل) سے پوری کرو، پھر دوسرے اعمال کا حساب بھی اسی انداز سے ہوگا۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت