فهرس الكتاب

الصفحة 1448 من 4341

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

باب : قریب الوفات بیمار کے پاس کیا کہا جائے ؟

1448 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، - وَلَيْسَ بِالنَّهْدِيِّ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَءُوهَا عِنْدَ مَوْتَاكُمْ، يَعْنِي يس»

معقل بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورہٴ یٰسٓ کے بارے میں فرمایا: ''اسے اپنے فوت ہونے والوں کے پاس پڑھا کرو۔''

مذکورہ روایت ضعیف ہے۔اس لئے قریب المرگ شخص پر سورۃ یسٰ پڑھنے کا رواج صحیح نہیں ہے اس کی بجائے اس کے لئے دعا کی جائے۔کہ یا اللہ ا س کے لئے اس دشوار مرحلہ کو آسان فرمادے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت