فهرس الكتاب

الصفحة 1526 من 4341

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

باب : اہل قبلہ کی نماز جنازہ ادا کرنا

1526 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُرِحَ، فَآذَتْهُ الْجِرَاحَةُ، فَدَبَّ إِلَى مَشَاقِصَ، فَذَبَحَ بِهَا نَفْسَهُ «فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» قَالَ: وَكَانَ ذَلِكَ مِنْهُ أَدَبًا

جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے ساتھیوں میں سے ایک صاحب زخمی ہوگئے۔ انہیں زخم سے تکلیف ہوئی ،وہ رینگ کر تیر کے پھل تک پہنچا اور اس کے ذریعے سے اپنے آپ کو ذبح کرلیا۔ نبی ﷺ نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی۔ جابر بن سمرہ ؓ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے تنبیہ کے طور پر ایسا کیا۔

1۔خود کشی کبیرہ گناہ ہے۔2۔کبیرہ گناہ کے مرتکب کا جنازہ پڑھانے سے اگر معزز اور عالم لوگ اجتناب کریں تو اس سے دوسروں کو عبرت ہوگی۔اور وہ اس گناہ سے بچنے کی کوشش کریں گے لیکن عوام کو ایسے شخص کا جنازہ پڑھنا چاہیے۔بغیر جنازہ پڑھے دفن نہ کیا جائے۔3۔ایسے مواقع پر امام کو حالات کا جائزہ لے کر فیصلہ کرنا چاہیے۔اگر اس کے انکار سے غیر مطلوب نتائج برآمد ہونے کاخطرہ ہو اور فائدے سے نقصان بڑھ جانے کااندیشہ ہو تو جنازہ پڑھانے سے انکار نہ کیاجائے۔دوسرے موقع پرمناسب انداز سے نصیحت کی جائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت