فهرس الكتاب

الصفحة 1552 من 4341

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

باب : میت کو قبر میں اتارنے کا بیان

1552 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «أُخِذَ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ، وَاسْتُقْبِلَ اسْتِقْبَالًا»

ابو سعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے جسم مبارک کو قبلے کی طرف سے لیا گیا اور اٹھا کر قبر میں داخل کر دیے گئے۔

1۔مذکورہ روایت سندا ً ضعیف ہے۔تاہم میت کو قبر میں داخل کر نے کا صحیح طریقہ وہی ہے جو گزشتہ حدیث کے فوائد میں مذکور ہے۔باقی رہا میت کا چہرہ اور جسم قبلہ کیطرف کرنا تو اس کی بابت علمائے کرام یہی لکھتے ہیں۔کہ یہ عمل کسی صحیح حدیث سے تو ثابت نہیں ہے۔البتہ چہرہ قبلے کی طرف کردیا جائے تو بہتر ہے امام ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ اس کی بابت لکھتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے زمانے سے لے کر آج تک مسلمانوں کا اسی پر عمل ہے۔تفصیل کے لئے دیکھیں۔ (المحلی لابن حزم 5/173 واحکام الجنائز ص 192) 2۔حدیث کے الفاظ (والستل استلالا) کی بابت علمائے محققین لکھتے ہیں۔ان الفاظ کی کوئی اصل نہیں ہے۔کیونکہ امام مزی نے تحفۃ الاشراف اور امام بوصیری نے مصباح الزجاجہ میں ان کو زکر نہیں کیا بلکہ ان الفاظ کی بجائے۔ (واستقبل استقبالا) کا زکر کیا ہے۔دیکھئے۔ (سنن ابن ماجہ للدکتور بشار عواد حدیث 1552)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت