1623 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مُوسَى بْنِ سَرْجِسَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَمُوتُ وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ فَيُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ ثُمَّ يَمْسَحُ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ
عائشہ ؓا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، جب کہ آپ کا آخری وقت تھا۔ آپ کے پاس پانی کا ایک پیالہ تھا۔ نبی ﷺ پیالے میں ڈالتے، پھر پانی ( والا ہاتھ) چہرے پر پھیر لیتے پھر فرماتے: اے اللہ! موت کی سختیوں پر میری مدد فرما۔''
یہی واقعہ صحیح بخاری میں بھی ہے۔اس میں یہ الفاظ ہیں۔ (لاالٰه الا الله ان للموت سكرات) اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں یقینًا موت کی سختیاں ہوتی ہیں۔ (صحیح البخاری المغاذی باب مرض النبی ﷺ ووفاتہ حدیث 4449) 2۔رسول ا للہ ﷺ نے زندگی کے آخری وقت میں چہرے پر پانی والا ہاتھ پھیرا اس کی وجہ غالبًا یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو آخری ایام میں سخت بخارتھا۔اس لئے وفات سے چار دن پہلے (جمعرات اور جمعے کی درمیانی رات ) عشاء کے وقت نبی کریم ﷺ نے غسل فرمایا تھا تاکہ بخار کی شدت کم ہوتو نماز باجماعت ادا فرمایئں لیکن ضعف کی شدت کی وجہ سے مسجد میں تشریف نہ لے جاسکے۔ 3۔نبی اکرم ﷺ نے آخری وقت میں بھی اللہ کی طرف توجہ فرمائی اور اسی کا زکر فرمایا اس لئے مسلمان کو چاہیے کہ سخت سے سخت حالات میں بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف توجہ کرے۔