فهرس الكتاب

الصفحة 1630 من 4341

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

باب: رسول اللہ ﷺ کی وفات اور آپ کے دفن کا بیان

1630 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:"قَالَتْ لِي فَاطِمَةُ: يَا أَنَسُ كَيْفَ سَخَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ تَحْثُوا التُّرَابَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟"

وحَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ فَاطِمَةَ، قَالَتْ: حِينَ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «وَا أَبَتَاهُ، إِلَى جِبْرَائِيلَ أَنْعَاهُ، وَا أَبَتَاهُ، مِنْ رَبِّهِ مَا أَدْنَاهُ، وَا أَبَتَاهُ، جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ، وَا أَبَتَاهُ أَجَابَ رَبًّا دَعَاهُ» قَالَ حَمَّادٌ فَرَأَيْتُ ثَابِتًا حِينَ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ بَكَى حَتَّى رَأَيْتُ أَضْلَاعَهُ تَخْتَلِفُ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: مجھے فاطمہ ؓا نے فرمایا:انس! تمہارے دلوں نے یہ کیسے گوارا کیا کہ تم اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ ﷺ ( جسد اطہر) پر مٹی ڈال دو؟

انس ؓ نے ( مزید) فرمایا: جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو فاطمہ ؓا نے فرمایا: ہائے ابا جان! جبریل کو آپ کی وفات کی خبر دیتی ہوں۔ ہائے ابا جان! آپ کو اپنے رب کا کتنا قرب حاصل ہے۔ ہائے ابا جان! جنت الفردوس آپ کا ٹھکانا ہے۔ ہائے ابا جان! رب نے آپ کو بلایا اور آپ نے اس کے بلاوے پر لبیک کہہ دیا۔ حماد بن زید ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے (اپنے استاد اور انس ؓ کے شاگرد) جناب ثابت ؓ کو دیکھا کہ جب انہوں نے یہ حدیث بیان فرمائی تو بہت روئے حتی کہ آپ کی پسلیاں اوپر نیچے ہوتی نظر آتیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت