فهرس الكتاب

الصفحة 1636 من 4341

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

باب: رسول اللہ ﷺ کی وفات اور آپ کے دفن کا بیان

1636 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ النَّفْخَةُ وَفِيهِ الصَّعْقَةُ فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنْ الصَّلَاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرِمْتَ يَعْنِي بَلِيتَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ

اوس بن اوس ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جمعے کا دن تمہارے افضل ایام میں سے ہے۔ اسی میں آدم ﷺ کی تخلیق ہوئی، اسی دن صور پھونکا جائے گا، اسی دن ( قیامت کی) بے ہوشی ہوگی، لہٰذا اس دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو، کیوں کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔'' ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب آپ کا جسد اطہر خاک ہو جائے گا تب ہمارا درود کیسے آپ پر پیش کیا جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ نبیوں کے جسموں کو کھائے۔ ''

یہ حدیث پہلے گزر جکی ہے'اس لیے حدیث:1085 کے فوائد ملاحظہ فرمائیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت