فهرس الكتاب

الصفحة 1701 من 4341

کتاب: روزوں کی اہمیت وفضیلت

باب: روزے کی نیت رات کو کرنا اور روزہ پورا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار

1701 حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ فَنَقُولُ لَا فَيَقُولُ إِنِّي صَائِمٌ فَيُقِيمُ عَلَى صَوْمِهِ ثُمَّ يُهْدَى لَنَا شَيْءٌ فَيُفْطِرُ قَالَتْ وَرُبَّمَا صَامَ وَأَفْطَرَ قُلْتُ كَيْفَ ذَا قَالَتْ إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا مَثَلُ الَّذِي يَخْرُجُ بِصَدَقَةٍ فَيُعْطِي بَعْضًا وَيُمْسِكُ بَعْضًا

عائشہ ؓا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لاتے اور فرماتے: ''کیا آپ لوگوں کے پاس کوئی (کھانے کی) چیز ہے؟ '' ہم کہتے نہیں، تو فرماتے: ''میرا روزہ ہے۔'' پھر آپ ﷺ روزہ رکھے رہتے۔ پھر ہمیں ہدیہ کے طور پر کوئی چیز مل جاتی تو آپ ﷺ روزہ چھوڑ دیتے۔ عائشہ ؓا نے فرمایا:''رسول اللہ ﷺ بعض اوقات روزہ رکھتے اور (بعض اوقات) کھول دیتے۔ ( مجاہد ؓ نے فرمایا:) میں نے کہا: یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ام المومنین نے فرمایا: اس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی شخص صدقہ (دینے کے لیے رقم ) نکالتا ہے۔ پھر ( اس میں سے) کچھ ( کسی مستحق کو) دے دیتا ہے اور کچھ اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔

1۔نفلی روزہ پو را کر نا ثواب ہے اور کسی وجہ سے نا مکمل چھوڑ دینا بھی نا جا ئز ہے لیکن اس صورت میں اسے ثواب نہیں ملے گا۔ 2۔ نفلی صدقے میں جس قدر چیز دینے کا ارادر کیا جا ئے اگر دیتے وقت اس سے کم دے دے تو بھی گناگا ر نہیں صرف ثواب اتنا کم ہو جا ئے گا 3۔ مسئلہ واضح کر نے کے لئے اس سے ملتے جلتے مسئلے کی مثا ل دے کر سمجھا دینا چا ہیے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت