فهرس الكتاب

الصفحة 1709 من 4341

کتاب: روزوں کی اہمیت وفضیلت

باب: ہر مہینے تین روزے رکھنا

1709 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ قُلْتُ مِنْ أَيِّهِ قَالَتْ لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّهِ كَانَ

معاذہ عدوہ ؓ عائشہ ؓا سے روایت کرتی ہیں ، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ ہر مہینے میں تین روزے رکھتےتھے ، (معاذہ عدویہ رحمہا اللہ نے بیان کیا) میں نے کہا: مہینے کے کس حصے میں؟ انہوں نے کہا:نبی ﷺ اس بات کی پرواہ نہیں کرتے تھے کہ کون سے حصے میں (روزے رکھے) ہیں۔

۔ اس سے معلو م ہو ا کہ مہینے کے درمیانی ایا م کے علا وہ بھی کو ئی سے تین دن رو زے رکھے جا سکتے ہیں کیو نکہ نبی ﷺ بعض اوقا ت بلا تعیین و تخصیص تین روزے رکھا کر ت تھے تا کہ و جو ب نہ سمجھا جا ئے اس طرح آ پ بعض د فعہ مہینے کی ابتدا میں تین روزے رکھتے چنا نچہ جن صحا بہ کے علم میں آپ کے یہی ابتدا ئی دن آ ئے انھو ں نے اس کے مطا بق بیا ن کر دیا اس لئے ان دو نو ں یعنی ایا م بیض اور ابتدا ئی ایا م میں روزے رکھنے میں کو ئی منا فقت نہیں تا ہم افضل یہی ہے کہ ایا م بیض کے 3 روزے رکھے جا ئیں کیو نکہ نبی ﷺ نے اس کا حکم دیا ہے جیسا کہ حدیث نمبر 1707میں گزر چکا ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت